دل میرے کیوں پریشان ہوا جاتا ہے



دل میرے کیوں پریشان ہوا جاتا ہے
کیا ہوا اگر سایہ بھی انجان ہوا جاتا ہے

کیا بُرا ہے جو رفتہ رفتہ سمجھ رہا تو
ذرا ذرا تو انسان ہوا جاتا ہے

چاہے کتنا بھی سمجھے ہوشیار خودکو
عشق میں ہر شخص نادان ہوا جاتا ہے

سانسیں اسکی ہیں پر ڈھدہکتا ہے کسی اور کی خاطر
اپنے اس ہنر پہ دل خود حیران ہوا جاتا ہے

ہے جو مشکل یہ محّبت تو بات جان لو تم
بعد اسکے تو ہر پل جاوداں ہوا جاتا ہے

اور کیا چاہئے تجھے نامور ہونے کیلئے
تیرا کلام ہی بادشاہ تیری پہچان ہوا جاتا ہے

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

The Lost Friend

Acrostic Poem Based On All Districts Of Kashmir By Perveiz Ali

Midnight Hour- A Poem By Shujaat Hussain.