دل میرے کیوں پریشان ہوا جاتا ہے - Aalaw Magazine

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Wednesday, 9 January 2019

دل میرے کیوں پریشان ہوا جاتا ہے



دل میرے کیوں پریشان ہوا جاتا ہے
کیا ہوا اگر سایہ بھی انجان ہوا جاتا ہے

کیا بُرا ہے جو رفتہ رفتہ سمجھ رہا تو
ذرا ذرا تو انسان ہوا جاتا ہے

چاہے کتنا بھی سمجھے ہوشیار خودکو
عشق میں ہر شخص نادان ہوا جاتا ہے

سانسیں اسکی ہیں پر ڈھدہکتا ہے کسی اور کی خاطر
اپنے اس ہنر پہ دل خود حیران ہوا جاتا ہے

ہے جو مشکل یہ محّبت تو بات جان لو تم
بعد اسکے تو ہر پل جاوداں ہوا جاتا ہے

اور کیا چاہئے تجھے نامور ہونے کیلئے
تیرا کلام ہی بادشاہ تیری پہچان ہوا جاتا ہے

1 comment:

Post Bottom Ad

Pages